کلامِ انشاردیف ے

یہ کیا کہ ان کے دل کو نہ زنہار توڑیئے

۱

یہ کیا کہ ان کے دل کو نہ زنہار توڑیئےسو بار جا کے جوڑئیے سو بار توڑیئے

۲

آؤ نہ مل کے بیٹھے ہیں بے شغل ہم سو کیوںکٹ کیجے ان سے یاری اب اے یار توڑیئے

۳

ہاتھ آوے کچھ اگر نہ سرشتہ بگاڑ کاتو لڑ کے ان کی موتیوں کا ہار توڑیئے

۴

یا چھیڑ چھاڑ کے لیے اک سنگ فرش سےدس پانچ ان کے رخنۂ دیوار توڑیئے

۵

یا لال چوری ڈالیوں کو توڑ تاڑ پررغبت سے ایک غنچۂ گلنار توڑیئے

۶

شوخی تو دیکھو آج یہی قصد ہے کہ خیرجس ڈھب سے ہووے خاطر دل دار توڑیئے

۷

وہ کچھ کہیں پر اپنی ہے بس گائے جائیےاور تان ادھر کو کوئی طرح دار توڑیئے

۸

یا کود پھاند چول بھی ان کے پلنگ کےبس ہو کے لڑنے بھڑنے کو تیار توڑیئے

۹

پھول ان کی کیاریوں سے کسی اور روپ کاکچھ کر کے بات چیت کے تکرار توڑیئے

۱۰

سبزے کو روند ڈالئے یا ان کے باغ کےنارنگیاں ہی چپکے سے دو چار توڑیئے

۱۱

انشاؔ یہ روٹھ راٹھ ہی اک تاؤ بھاؤ کےاس توڑ جوڑ کا نہ کبھی تار توڑیئے

۶۸ / ۸۰