کلامِ انشاردیف ے
یہ کس سے چاندنی میں ہم بہ زیر آسماں لپٹے
۱
یہ کس سے چاندنی میں ہم بہ زیر آسماں لپٹےکہ باہم عرش پر مارے خوشی کے قدسیاں لپٹے
۲
حدی خواں وادئ مجنوں میں ناقہ کو نہ لے جانامبادا اک بگولا سا بہ پائے سارباں لپٹے
۳
ادب گر حضرت جبریل کا مانع نہ ہو مجھ کوتو شاخ سدرہ سے میرے یہ آہ ناتواں لپٹے
۴
سکندر اور دارا کیا کروڑوں اور بھی ان سےپڑے ہیں گور کے تختہ سے زیر خاکداں لپٹے
۵
کسی ڈھب سے طبیعت سیر ہوتی ہی نہیں ان سےابھی دالان سے لائے بہ زیر سائباں لپٹے
۶
ہنسے بولے رہے مشغول اپنے جس طرح چاہاادھر لپٹے ادھر سوئے یہاں چمٹے وہاں لپٹے
۷
ولیکن پاس کہتی ہے کہ ہوں گی خواب کی باتیںتمہیں کچھ خیر ہے صاحب بتاؤ تو جہاں لپٹے
۸
کدھر لوٹے کدھر پوٹے ہنسے بولے کدھر جا کرکہاں لپٹے کہاں سوئے کہاں چمٹے کہاں لپٹے
۹
غزل مستی میں لکھ اک اور بھی انشاؔ کہ تا تیرےبلائیں آ کے ساقی لے تجھے پیر مغاں لپٹے
۶۹ / ۸۰