کلامِ انشاردیف ے

یہ جو مجھ سے اور جنوں سے یاں بڑی جنگ ہوتی ہے دیر سے

۱

یہ جو مجھ سے اور جنوں سے یاں بڑی جنگ ہوتی ہے دیر سےسو کچھ ایسی ڈھب سے لڑائی ہے لڑے شیر جیسے کہ شیر سے

۲

بنی شکل لیلیٔ نوجواں مرے داتا کیا کہوں الاماںوہ تجلی ایک جو ہوئی عیاں کسی رات قیس کے ڈھیر سے

۳

ابھی دو مہینے سے ہوں جدا نہ تو خواب میں بھی نظر پڑابھلا اور اندھیر زیادہ کیا کہیں ہوگا ایسے اندھیر سے

۴

مجھے شامیانہ تلے سے کیا مرا دل تو کہتا ہے مجھ سے آسر راہ کوٹھے پہ بیٹھ جا یہیں تکیہ دے کے منڈیر سے

۵

تری بادلے کی یہ اوڑھنی ارے برق کوندے نظر میں تبکرے یہ گھٹا جو مقابلہ کسی پیشواز کے گھیر سے

۶

نہیں انتظار کے حوصلے مجھے سوجھے سیکڑوں ارتلےقسم ان نے کھائی تو ہے ولے مرا جی ڈرے ہے ادھیر سے

۷

بھلا مجھ سے دیو کے سامنے کوئی ٹھونک سکتے ہیں خم بھلاارے یہ انگوٹھے سے آدمی تو بچارے خود ہیں بٹیر سے

۸

وہی پی کہاں وہی پی کہاں یہی ایک رٹ سی جو ہے سو ہےمہاراج چوٹ سی لگتی ہے مجھے اس پپیہے کی ٹیر سے

۹

غزل انشاؔ اور بھی ایک لکھ اسی بحر اور ردیف کیکہ زبر کی قافیے جس میں ہوں مجھے نفرت آ گئی زیر سے

۷۰ / ۸۰