کلامِ انشاردیف ے
یہ جو مجھ سے اور جنوں سے یاں بڑی جنگ ہوتی ہے دیر سے
یہ جو مجھ سے اور جنوں سے یاں بڑی جنگ ہوتی ہے دیر سےسو کچھ ایسی ڈھب سے لڑائی ہے لڑے شیر جیسے کہ شیر سے
بنی شکل لیلیٔ نوجواں مرے داتا کیا کہوں الاماںوہ تجلی ایک جو ہوئی عیاں کسی رات قیس کے ڈھیر سے
ابھی دو مہینے سے ہوں جدا نہ تو خواب میں بھی نظر پڑابھلا اور اندھیر زیادہ کیا کہیں ہوگا ایسے اندھیر سے
مجھے شامیانہ تلے سے کیا مرا دل تو کہتا ہے مجھ سے آسر راہ کوٹھے پہ بیٹھ جا یہیں تکیہ دے کے منڈیر سے
تری بادلے کی یہ اوڑھنی ارے برق کوندے نظر میں تبکرے یہ گھٹا جو مقابلہ کسی پیشواز کے گھیر سے
نہیں انتظار کے حوصلے مجھے سوجھے سیکڑوں ارتلےقسم ان نے کھائی تو ہے ولے مرا جی ڈرے ہے ادھیر سے
بھلا مجھ سے دیو کے سامنے کوئی ٹھونک سکتے ہیں خم بھلاارے یہ انگوٹھے سے آدمی تو بچارے خود ہیں بٹیر سے
وہی پی کہاں وہی پی کہاں یہی ایک رٹ سی جو ہے سو ہےمہاراج چوٹ سی لگتی ہے مجھے اس پپیہے کی ٹیر سے
غزل انشاؔ اور بھی ایک لکھ اسی بحر اور ردیف کیکہ زبر کی قافیے جس میں ہوں مجھے نفرت آ گئی زیر سے
۷۰ / ۸۰