کلامِ انشاردیف ے

یاں زخمیٔ نگاہ کے جینے پہ حرف ہے

۱

یاں زخمیٔ نگاہ کے جینے پہ حرف ہےہے دل پر اپنے زخم کہ سینے پہ حرف ہے

۲

زر خرچیاں کہاں تلک اپنی بیاں کریںقارون کی بھی یاں تو خزینے پہ حرف ہے

۳

ملتے تھے چوتھے پانچویں وہ وقت تو گیااب یہ کہ چار پانچ مہینے پہ حرف ہے

۴

کیا دخل وہ جو ہاتھ سے میرے پئیں شرابواں کہتے کہتے بات بھی پینے پہ حرف ہے

۵

طوفان اشک نوحؔ علیہ لسلام سےبولا کہ آپ کے بھی سفینے پہ حرف ہے

۶

نا چیز آپ جانتے ہیں اس قدر مجھےالفت تو جاوے بھاڑ میں کینے پہ حرف ہے

۷

ناصح جگر کے زخم کو جراح کیا سئےیاں سوزن مسیح کے سینے پہ حرف ہے

۸

یاں ہر بن مسام میں خوں نابہ ہے رواںنکلے تو خوں ہی نکلے پسینے پہ حرف ہے

۹

انشاؔ کی مہر پڑھیے بھلا آشنا ہواکندیدہ کوئی اس کے نگینے پہ حرف ہے

۱۰

اب دھیان کر کے دیکھیے کیا ہے گٹھا ہوااس کا ہر ایک اپنے قرینے پہ حرف ہے

۷۱ / ۸۰