کلامِ انشاردیف ے
ٹک اک اے نسیم سنبھال لے کہ بہار مست شراب ہے
ٹک اک اے نسیم سنبھال لے کہ بہار مست شراب ہےوہ جو حسن عالم نشہ ہے اسے اب کی عین شباب ہے
وہ گھٹائیں چھائیں جو کالیاں جو ہری بھری ہوئیں ڈالیاںابھر آئیں پھولوں کی لالیاں تو بجائے آب شہاب ہے
یہ دو روزہ نشو و نما کو تو نہ سمجھ کہ نقش پر آب سےیہ سراب ہے یہ حباب ہے فقط ایک قصۂ خواب ہے
عرق بہار شراب ہے وہ ہی آج چھڑکیں گے آپ پرنہ تو بید مشک ہے اس گھڑی نہ تو کیوڑا نہ گلاب ہے
انہیں کہنے سننے سے بیر ہے جو خود آئیں سو تو بخیر ہےیہ غرض کہ زور ہی سیر ہے نہ سوال ہے نہ جواب ہے
کدھر آؤں جاؤں کروں سو کیا مرا جی ہی ناک میں آ گیانہ تو عرض حال کی تاب ہے نہ تو صبر خانہ خراب ہے
مجھے وحش و طیر سے رشک ہے کہ کبھی انہوں کو کسی نمطنہ سوال ہے نہ جواب ہے نہ عذاب ہے نہ عقاب ہے
مری بات مان سنا دلا نہ تو عرض و فرض پہ جی چلاکوئی ان کو ٹوکے سو کیا بھلا کہ وہ عالی ان کی جناب ہے
ارے انشاؔ اب جو یہ دور ہے تری وضع ان دنوں اور ہےیہ بھی کوئی زیست کا طور ہے نہ شراب ہے نہ کباب ہے
۷۲ / ۸۰