کلامِ انشاردیف ے

ٹک اک اے نسیم سنبھال لے کہ بہار مست شراب ہے

۱

ٹک اک اے نسیم سنبھال لے کہ بہار مست شراب ہےوہ جو حسن عالم نشہ ہے اسے اب کی عین شباب ہے

۲

وہ گھٹائیں چھائیں جو کالیاں جو ہری بھری ہوئیں ڈالیاںابھر آئیں پھولوں کی لالیاں تو بجائے آب شہاب ہے

۳

یہ دو روزہ نشو و نما کو تو نہ سمجھ کہ نقش پر آب سےیہ سراب ہے یہ حباب ہے فقط ایک قصۂ خواب ہے

۴

عرق بہار شراب ہے وہ ہی آج چھڑکیں گے آپ پرنہ تو بید مشک ہے اس گھڑی نہ تو کیوڑا نہ گلاب ہے

۵

انہیں کہنے سننے سے بیر ہے جو خود آئیں سو تو بخیر ہےیہ غرض کہ زور ہی سیر ہے نہ سوال ہے نہ جواب ہے

۶

کدھر آؤں جاؤں کروں سو کیا مرا جی ہی ناک میں آ گیانہ تو عرض حال کی تاب ہے نہ تو صبر خانہ خراب ہے

۷

مجھے وحش و طیر سے رشک ہے کہ کبھی انہوں کو کسی نمطنہ سوال ہے نہ جواب ہے نہ عذاب ہے نہ عقاب ہے

۸

مری بات مان سنا دلا نہ تو عرض و فرض پہ جی چلاکوئی ان کو ٹوکے سو کیا بھلا کہ وہ عالی ان کی جناب ہے

۹

ارے انشاؔ اب جو یہ دور ہے تری وضع ان دنوں اور ہےیہ بھی کوئی زیست کا طور ہے نہ شراب ہے نہ کباب ہے

۷۲ / ۸۰