کلامِ انشاردیف ے

پکڑی کسی سے جاوے نسیم اور صبا بندھے

۱

پکڑی کسی سے جاوے نسیم اور صبا بندھےمولیٰ کرے کچھ اپنی بھی اب تو ہوا بندھے

۲

عاشق کو بوغ بند میں باندھا ہے اس نے یوںتا ہو کے دست بقچہ میں جیسے قبا بندھے

۳

یوں دود آہ کا مری گنبد بندھا ہے یاںچھت جیسے ابر تیرہ کی تحت السما بندھے

۴

ٹک عالم اے جنوں تو دکھا وہ کہ جس سے صافلاہوت کا سماں مری آنکھوں میں آ بندھے

۵

سرما گھلا کے آنکھوں میں نکلا نہ کیجئےایسا نہ ہو کہ آپ پہ کچھ توتیا بندھے

۶

قدرت خدا کے دیکھو کہ چوری تو ہم کریںاور الٹے دست گیر ہو دزد حنا بندھے

۷

الجھیڑے میں پھنسے تھے تری زلف کے سو وہالٹے ٹنگے اسیر ہوئے بارہا بندھے

۸

انشاؔ صد آفریں ترے ذہن سلیم کومضموں زیادہ اس سے بھلا اور کیا بندھے

۷۳ / ۸۰