کلامِ انشاردیف ے

کنایہ اور ڈھب کا اس مری مجلس میں کم کیجے

۱

کنایہ اور ڈھب کا اس مری مجلس میں کم کیجےاجی سب تاڑ جاویں گے نہ ایسا تو ستم کیجے

۲

تمہارے واسطے صحرا نشیں ہوں ایک مدت سےبسان آہوۓ وحشی نہ مجھ سے آپ رم کیجے

۳

مہاراجوں کے راجہ اے جنوں ڈنڈوت ہے تم کویہی اب دل میں آتا ہے کوئی پوتھی رقم کیجے

۴

گلے میں ڈال کر زنار قشقہ کھینچ ماتھے پربرہمن بنئے اور طوف‌ در بیت الصنم کیجے

۵

کہیں دل کی لگاوٹ کو جو یوں سوجھے کہ تک جا کرقدیمی یار سے اپنے بھی خلطہ کوئی دم کیجیے

۶

تو انگلی کاٹ دانتوں میں پھلا نتھنے رہاندی ہولگا کہنے بس اب میرے بڑھاپے پر کرم کیجے

۷

پھڑکتا آج بھی ہم کو نہ پرسوں کی طرح رکھئےخدا کے واسطے کچھ یاد وہ اگلی قسم کیجے

۸

ملنگ آپس میں کہتے تھے کہ زاہد کچھ جو بولے تواشارا اس کو جھٹ سو نر انگشت شکم کیجے

۹

کبھی خط بھی نہ لکھ پہنچا پڑھایا آپ کو کس نےکہ القط دوستی انشاؔ سے ایسی یک قلم کیجیے

۷۵ / ۸۰