کلامِ انشاردیف ے

ہیں جو مروج مہر و وفا کے سب سر رشتے بھول گئے

۱

ہیں جو مروج مہر و وفا کے سب سر رشتے بھول گئےپھر گئے تم تو قول و قسم سے اپنے نوشتے بھول گئے

۲

جب دیکھو تب لاٹھی ٹھینگے کھٹ کھٹ کرتے پھرتے ہیںاڑتے ہیں کوئی شیخ جی صاحب ان کو فرشتے بھول گئے

۳

اہلے گہلے پھرتے ہو صاحب سیر چمن میں اور تمہیںاپنے تڑپتے زخمی سب خوں میں آغشتے بھول گئے

۴

قاضی جیو کے دونوں بیٹے ہم سے کہیں گے ہے وہ مثلگھر میں فرشتے کے خارشتے سو خارشتے بھول گئے

۵

نسل بڑی آدم کی انشاؔ کون کسی کو پہچانےباعث کثرت ہم دیگر کے ناتے رشتے بھول گئے

۷۶ / ۸۰