کلامِ انشاردیف ے
ہے جس میں قفل خانۂ خمار توڑیئے
ہے جس میں قفل خانۂ خمار توڑیئےیعنی در بہشت کو یکبار توڑیئے
کیوں قید خم میں دختر رز ہی پڑی رہےیہ مہر ریسمان سروکار توڑیئے
شاگرد امیر حمزۂ صاحب قراں کے ہیںکیوں کر بھلا نہ قلعۂ اشرار توڑیئے
کیجے لقائے باختر بے بقا کو قیدنجتک کے سر پہ گرز گراں بار توڑیئے
چوٹی پکڑ کے نرگس جادو کی کھینچیےکلے کو اس کے ماریے للکار توڑیئے
رستم سے چھین لیجئے دیو سفید کواور اس کی دہ مروڑ کے تلوار توڑیئے
سد سکندری بھی جو چڑھ جائے دھیان توووہیں طفیل حیدر کرار توڑیئے
آ جاویں ہفت خوان طلسمات سامنےتو خیر سے انہیں بھی بہ تکرار توڑیئے
حصن زمردین عدو کوہ قاف پرہووے تو اس کو بھیج کے عیار توڑیئے
زنبیل ہے عمرو کی دل فکر خیز یہاس کو کسی طرح سے نہ زنہار توڑیئے
ہے عزم جزم یہ کہ زبردستی آج توبند قبا ہے موسم گلزار توڑیئے
یا چھیڑنے کو ابر کے اک جھٹکا مار کرشلوار بند برق شرربار توڑیئے
جی چاہتا ہے لے کے بلائیں تمہاری آجپوریں ان انگلیوں کو سب اے یار توڑیئے
انشاؔ دکھا کے اور بھی اک جلوۂ غزلبند نقاب شاہد اسرار توڑیئے
۷۷ / ۸۰