کلامِ انشاردیف ے
گلی سے تیری جو ٹک ہو کے آدمی نکلے
۱
گلی سے تیری جو ٹک ہو کے آدمی نکلےتو اس کے سایہ سے جھٹ بن کے اک پری نکلے
۲
خیال میں ترے چہرے کی مر گیا ہو جو شخصتو اس کی خاک سے سونے کی آرسی نکلے
۳
بعید شان سے عاشق کے آہ بھرنی تھیولی وہ کیا کرے جب اس کی جان ہی نکلے
۴
کسی کے ہوش کو کہہ دو اگر چلا چاہےتو اپنے گھر سے کمر باندھ کر ابھی نکلے
۵
نشان آہ لیے چھاؤں چھانو تاروں کےچلے گی فوج سرشک آج چاندنی نکلے
۶
کجی طبیعت کج فہم سے ہو تب منفککسی دوا سے دم سگ کے گر کجی نکلے
۷
ہزار شکر کہ انشاؔ کسی کی محفل میںخفا سے آئے تھے پر ہو ہنسی خوشی نکلے
۷۸ / ۸۰