کلامِ انشاردیف چ

امرد ہوئے ہیں تیرے خریدار چار پانچ

۱

امرد ہوئے ہیں تیرے خریدار چار پانچدے ایسے اور حق مجھے اغیار چار پانچ

۲

جب گدگداتے ہیں تجھے ہم اور ڈھب سے تبسہتے ہیں گالیاں تری نا چار چار پانچ

۳

کل یوں کہا کہ ٹک تو ٹھہر لے تو بولے آپہیں منتظر مرے سر بازار چار پانچ

۴

او جانے والے شخص ٹک اک مڑ کے دیکھ لےیاں بھی تڑپ رہے ہیں گناہ گار چار پانچ

۵

صیاد لے خبر کہ دیا چاہتے ہیں جانکنج قفس میں تازہ گرفتار چار پانچ

۶

میاں ہم بھی کوئی قہر ہیں جب دیکھو تب لیےبیٹھے ہیں اپنے پاس طرحدار چار پانچ

۷

چپکے سے تم جو کہتے ہو ہیں اپنے آشناشعلہ بھبھوکے اور دھواں دھار چار پانچ

۸

ہر ایک ان سے شوخ ہے کیا خوب بات ہولگ جائیں تیرے ہاتھ جو یک بار چار پانچ

۹

تو ان کو چاہ چھوڑ مجھے واچھڑے چے خوشرکھے ہیں میرے واسطے دل دار چار پانچ

۱۰

ہے کام ایک ہی سے وہ چولھے میں سب پڑیںصدقے کیے تھے ایسے وہ فی النار چار پانچ

۱۱

صاحب تمہیں تمہیں نہیں ہرگز نہیں نہیںمجھ کو نہیں نہیں نہیں درکار چار پانچ

۱۲

میرؔ و قتیلؔ و مصحفیؔ و جرأتؔ و مکیںؔہیں شاعروں میں یہ جو نمودار چار پانچ

۱۳

سو خوب جانتے ہیں کہ ہر ایک رنگ کےانشاؔ کی ہر غزل میں ہیں اشعار چار پانچ

۱۷ / ۸۰