کلامِ انشاردیف ج
جو بات تجھ سے چاہی ہے اپنا مزاج آج
۱
جو بات تجھ سے چاہی ہے اپنا مزاج آجقربان تیری کل پہ نہ ٹال آج آج آج
۲
دہکی ہے آگ دل میں پڑے اشتیاق کیتیرے سوائے کس سے ہو اس کا علاج آج
۳
ہے فوج فوج غمزہ و انداز تیرے ساتھاقلیم ناز کا ہے تجھے تخت و تاج آج
۴
تیرا وہ حسن ہے کہ جو ہوتا تو بھیجتایوسف زمین مصر سے تجھ کو خراج آج
۵
خوباں روزگار مقلد ترے ہیں سبجو چیز تو کرے سو وہ پاوے رواج آج
۶
آب زلال وصل سے اندوہ درد و ہجرناپید گھل کے ہوتا ہے کیا مثل زاج آج
۷
انشاؔ سے اپنے اور یہ انکار حیف ہےلایا ہے وہ کبھی نہ کبھی احتیاج آج
۱۶ / ۸۰