کلامِ انشاردیف ح
تجھ سے یوں یک بار توڑوں کس طرح
۱
تجھ سے یوں یک بار توڑوں کس طرحمیں قدم تیرے یہ چھوڑوں کس طرح
۲
گھر سے بابر تو نہ نکلا تا ہنوزتیرے در پر سر نہ پھوڑوں کس طرح
۳
مے سے تائب تھا ولیکن آج پیہاتھ لگ جاوے تو چھوڑوں کس طرح
۴
آبروئے ابر یاں منظور ہےآہ میں دامن نچوڑوں کس طرح
۵
صاف دل کیوں کر کروں تجھ سے بھلاٹوٹی الفت پھر کے جوڑوں کس طرح
۶
شوق سے تو ہاتھ کو میرے مروڑمیں ترا پنجا مروڑوں کس طرح
۷
وقت بوسہ کے یہ انشاؔ سے کہاتجھ سے میں پھر منہ نہ موڑوں کس طرح
۱۸ / ۸۰