کلامِ انشاردیف ی
بندگی ہم نے تو جی سے اپنی ٹھانی آپ کی
بندگی ہم نے تو جی سے اپنی ٹھانی آپ کیبندہ پرور خیر آگے قدر دانی آپ کی
تھی جو وہ لاہی کی ٹوپی زعفرانی آپ کیسو ہمارے پاس ہے اب تک نشانی آپ کی
دم بدم کہہ بیٹھنا بس جاؤ اپنی ان کے پاسکیوں نہیں جاتی وہ اب تک بد گمانی آپ کی
کیا کہوں مارے خوشی کے حال میرا کیا ہواآمد آمد جو ہوئی کل ناگہانی آپ کی
ہے کسی سے آج وعدہ کچھ اجی خالی نہیںیہ دھڑے مسی کی ہونٹوں پر جمانی آپ کی
ہم نے سو راتیں جگائیں تب ہوا یہ اتفاقسو اسی دن کو دھری تھی نیند آنی آپ کی
میرے حق میں اب جو یہ ارشاد فرمایا کہ ہےخوب یاں منقوش خاطر جانفشانی آپ کی
لیک میں اوڑھوں بچھاؤں یا لپیٹوں کیا کروںروکھی پھیکی ایسی سوکھی مہربانی آپ کی
کیوں نہ عشق اللہ بولوں حضرت دل آپ کوپیشواؤں نے بھی اپنی آن مانی آپ کی
دید کر ڈالا بس ان سے عالم لاہوت ثبتجس نے لگدی بنک کی صافی میں چھانی آپ کی
اپنی آنکھوں میں پڑی پھرتی ہے اب تک روز و شبعرش پر داتا وہی صورت دکھانی آپ کی
اے جنوں استاد بس خم ٹھونک کر آ جائیےہاں خلیفہ ہم بھی دیکھیں پہلوانی آپ کی
صدقہ صدقہ کیوں نہ ہو جاؤں بھلا غش کھا کے میںدیکھ گدرائی ہوئی اٹھتی جوانی آپ کی
سبزہ آغازی سو یہ کچھ تسپہ آفت سادگیقہر پھر اس بات پر گردن ہلانی آپ کی
اپنی آنکھوں میں تراوٹ آ گئی یک بارگیدیکھ کر یہ لہلہے پوشاک دھانی آپ کی
کیوں نہ لڑکی سب کہیں حوا تمہیں اے شیخ جیوہے جھموخی کی سی صورت یہ ڈرانی آپ کی
گول پگڑی نیلی لنگی مونچھ منڈی تکیہ ریشپھر وہ رومال اور وہ آخ تھو ناسدانی آپ کی
دو گلابی لا کے ساقی نے کہا انشاؔ کو راتزعفرانی میرا حصہ ارغوانی آپ کی
۵۱ / ۸۰