کلامِ انشاردیف ہ

ہے مجھ کو ربط بسکہ غزالان رم کے ساتھ

۱

ہے مجھ کو ربط بسکہ غزالان رم کے ساتھچونکوں ہوں دیکھ سائے کو اپنے قدم کے ساتھ

۲

ہے ذات حق جواہر و اغراض سے بریتشبیہ کیا ہے اس کو وجود و عدم کے ساتھ

۳

کیا این و ملک و وضع و اضافت کا دخل واںہے انفعال و فعل متیٰ کیف و کم کے ساتھ

۴

دیکھا میں ساتھ ڈھول کے سولی پر ان کا سرفخریہ وہ جو پھرتے تھے طبل و علم کے ساتھ

۵

دیکھی یہ چاہ ان کی اندھیرے کنویں کے بیچپھینکا لپیٹ کشتہ کو اپنے گلم کے ساتھ

۶

کوئے بتاں سے طوف حرم کو چلے تو ہملیکن کمال حسرت و حرمان و غم کے ساتھ

۷

تھیں اپنی آنکھیں حلقۂ زنجیر کی نمطپیوستہ ہل رہی در بیت الصنم کے ساتھ

۸

کہتے ہو ووں سے ہوکے ادھر آؤ ووں چلیںکیا خوب کیوں نہ دوڑ پڑوں ایسے دم کے ساتھ

۹

تم اور بات مانو اجی سب نظر میں ہےدانتوں تلے زبان دبانی قسم کے ساتھ

۱۰

اب چھیڑ چھاڑ کی غزل انشاؔ اک اور لکھہیں لاکھ شوخیاں تری نوک قلم کے ساتھ

۵۰ / ۸۰