کلامِ انشاردیف ی
گالی سہی ادا سہی چین جبیں سہی
۱
گالی سہی ادا سہی چین جبیں سہییہ سب سہی پر ایک نہیں کی نہیں سہی
۲
مرنا مرا جو چاہے تو لگ جا گلے سے ٹکاٹکا ہے دم مرا یہ دم واپسیں سہی
۳
گر نازنیں کے کہنے سے مانا برا ہو کچھمیری طرف کو دیکھیے میں نازنیں سہی
۴
کچھ پڑ گیا ہے آنکھ میں رونا کہے ہے توکیوں میں عبث کو بحثوں یہی دل نشیں سہی
۵
آگے بڑھے جو جاتے ہو کیوں کون ہے یہاںجو بات ہم کو کہنی ہے تم سے یہیں سہی
۶
منظور دوستی جو تمہیں ہے ہر ایک سےاچھا تو کیا مضایقہ انشاؔ سے کیں سہی
۵۲ / ۸۰