کلامِ انشاردیف ی
وہ پری ہی نہیں کچھ ہو کے کڑی مجھ سے لڑی
۱
وہ پری ہی نہیں کچھ ہو کے کڑی مجھ سے لڑیآنکھ نرگس سے بھی دو چار گھڑی مجھ سے لڑی
۲
واسطے تیرے مرا رنگ محل ہے دشمنتیری خاطر تو ہر اک چھوٹی بڑی مجھ سے لڑی
۳
جھڑ لگا دی مری آنکھوں نے تو لو اور سنوٹکٹکی باندھ کے کیوں منہ کی جھڑی مجھ سے لڑی
۴
رات لڑ بھڑ وہ جو چپ ہو رہی تو ان کے عوضبولتے تھے وہ جو سونے کی گھڑی مجھ سے لڑی
۵
بیٹھے بیٹھے کہیں بلبل کو جو چھیڑا میں نےتو نسیم اس کی بدل ہو کے کھڑی مجھ سے لڑی
۶
کون سی حور یہاں کھیلنے چوتھی آئیبوئے گل لے کے جو پھولوں کی چھڑی مجھ سے لڑی
۷
روٹھ کر ان کی گلی میں جو لگا تو انشاؔہر اک اس دو لڑی موتی کی لڑی مجھ سے لڑی
۵۳ / ۸۰