کلامِ انشاردیف ی
پھبتی ترے مکھڑے پہ مجھے حور کی سوجھی
۱
پھبتی ترے مکھڑے پہ مجھے حور کی سوجھیلا ہاتھ ادھر دے کہ بہت دور کی سوجھی
۲
ٹک دیکھئے گا جبہ و عمامہ زاہدہے اس پہ مجھے بلعم باعور کی سوجھی
۳
کیوں میں دل پر آبلہ پر تاک نہ باندھوںہے اس پہ مجھے خوشۂ انگور کی سوجھی
۴
ہے شیخ سیہ چہرہ جو مجلس میں پھدکتایاروں کو یہاں روئی کے لنگور کی سوجھی
۵
واعظ جو پڑھا جن متبختر ہے نہایتاس پر مجھے شیطان کی ہے پور کی سوجھی
۶
ہاتھ اپنے سے جب چھٹ گئی اس ڈنڈ کی مچھلیتب اس کے تڑپنے پہ سقنقور کی سوجھی
۷
ہاں اے شفق صبح تری دیکھ کے رنگتشنجرف کی سوجھی مجھے کافور کی سوجھی
۸
جب پھول جھڑے نور کے اس آہ سے میریاس پر مجھے انشاؔ شجر طور کی سوجھی
۵۴ / ۸۰