کلامِ انشاردیف د
لگ جا تو مرے سینہ سے دروازہ کو کر بند
۱
لگ جا تو مرے سینہ سے دروازہ کو کر بنددے کھول قبا اپنی کی بے خوف و خطر بند
۲
افسون نگہ سے تری اے ساقیٔ بد مستشیشہ میں ہوئی مثل پری اپنی نظر بند
۳
مکڑاتے ہوئے پھرتے ہیں ہم کوچہ میں اس کےکیا کیجئے دروازہ ادھر بند ادھر بند
۴
یا شاہ نجف نام اشارہ میں ترا لوںہو جائے دم نزع زباں میرے اگر بند
۵
آوے وہ اگر یار سفر کردہ تو انشاؔمیں دوڑ کے کس لطف سے کھلواؤں کمر بند
۱۹ / ۸۰