کلامِ انشاردیف د
حضرت عشق ادھر کیجے کرم یا معبود
حضرت عشق ادھر کیجے کرم یا معبودبال گوپال ہیں یاں آپ کے ہم یا معبود
بندہ خانہ میں اجی لائیے تشریف شریفآ کے رکھ دیجے ان آنکھوں پہ قدم یا معبود
نفی اثبات کی شاغل جو قلندر ہیں سو وہاپنی گردن کو نہیں کرتے ہیں خم یا معبود
اپنے داتا کی حقیقت کے ہیں جلوہ تم میںلمعۂ نور تجلی کی قسم یا معبود
جلد پھٹکارئے سبزے کے نشہ کو کوڑاکھینچیے اور کوئی سلفے کا دم یا معبود
آپ ہی آپ ہیں وہ آپ نے سچ فرمایایوں بھی کچھ دھوکے سے تھے نام کو ہم یا معبود
ورنہ یہ عاریتاً ہے جو وجود اپنا سوگزراں وہ تو ہے جوں موجۂ یم یا معبود
واقعی بولنے سے اپنے لڑا بیٹھے جو آنکھکیوں خودی سے نہ کرے پھیر وہ رم یا معبود
آنکھ کو کہتے عرب عین ہیں سو عین اگردم پر آ جائے تو ہو عین عدم یا معبود
رات تریاک نشہ نے تو الٹ ڈالا واہکوئی گھولا تو وہ تھا کاسۂ سم یا معبود
سدرہ تک آن تو پہونچا ہوں دلی قصد ہے یہکہ بڑھوں اور بھی دو چار قدم یا معبود
چار زانو ہو اب انشاؔ بھی زمیں سے اونچایک و جب رہنے لگا سادہ کی دم یا معبود
۲۰ / ۸۰