کلامِ انشاردیف ڈ

میاں چشم جادو پہ اتنا گھمنڈ

۱

میاں چشم جادو پہ اتنا گھمنڈخط و خال و گیسو پہ اتنا گھمنڈ

۲

اجی سر اٹھا کر ادھر دیکھنااسی چشم و ابرو پہ اتنا گھمنڈ

۳

نسیم گل اس زلف میں ہو تو آنہ کر اپنی خوشبو پہ اتنا گھمنڈ

۴

شب مہ میں کہتا ہے وہ ماہ سےرکابی سے اس رو پہ اتنا گھمنڈ

۵

بس اے شمع کر فکر اپنی ذراانہی چار آنسو پہ اتنا گھمنڈ

۶

اکڑتا ہے کیا دیکھ دیکھ آئنہحسیں گرچہ ہے تو پہ اتنا گھمنڈ

۷

وہ کر پنجا انشاؔ سے بولے کہ واہاسی زور بازو پہ اتنا گھمنڈ

۲۱ / ۸۰