کلامِ انشاردیف ر
کیا بھلا شیخ جی تھے دیر میں تھوڑے پتھر
۱
کیا بھلا شیخ جی تھے دیر میں تھوڑے پتھرکہ چلے کعبہ کے تم دیکھنے روڑے پتھر
۲
اے بسا کہنہ عمارات مقابر جن کےلوگوں نے چوب و چگل کے لیے توڑے پتھر
۳
جاؤ اے شیخ و برہمن حرم و دیر کو تمبھائی بیزار ہیں ہم ہم نے یہ چھوڑے پتھر
۴
کبھی دل ہائے بتاں تجھ سے پسیجیں اے اشکتو یہ ہم جانیں کہ بس تو نے نچوڑے پتھر
۵
نہ چرے نوک سے نشتر کے عیاذاً باللہکوئی عشاق کے تھے چھاتی کے پھوڑے پتھر
۶
کوس بیٹھیں فقرا اہل دول کو تو ابھیان کے ہاتھی ہوں پہاڑ اور یہ گھوڑے پتھر
۷
گر سگ گرسنہ لے شوم کے مطبخ کی باستو بھلا ہڈی کی جا کیا وہ بھنبوڑے پتھر
۸
نہ ہنسا میں جو ہنسانے سے شب ان کی تو کہاتجھے قربان کروں ہائے نگوڑے پتھر
۹
ایک غزل اور سنا دے ہمیں انشاؔ ہر چندتو نے اس میں بھی کسی ڈھب کے نہ چھوڑے پتھر
۲۲ / ۸۰