کلامِ انشاردیف ہ

نیند مستوں کو کہاں اور کدھر کا تکیہ

۱

نیند مستوں کو کہاں اور کدھر کا تکیہخشت خم خانہ ہے یاں اپنے تو سر کا تکیہ

۲

لخت دل آ کے مسافر سے ٹھہرتے ہیں یہاںچشم ہے ہم سے گداؤں کی گزر کا تکیہ

۳

جس طرف آنکھ اٹھا دیکھیے ہو جائے اثرہم تو رکھتے ہیں فقط اپنی نظر کا تکیہ

۴

چین ہرگز نہیں مخمل کے اسے تکیے پراس پری کے لیے ہو حور کے پر کا تکیہ

۵

ہاتھ اپنے کے سوا اور تو کیا ہو ہیہاتوالہ و در بہ در و خاک بسر کا تکیہ

۶

سر تو چاہے ہے مرا ہووے میسر تیرےہاتھ کا بازو کا زانو کا کمر کا تکیہ

۷

یہ تو حاصل ہے کہاں بھیج دے لیکن مجھ کوجس میں بالوں کی ہو بو تیرے ہو سر کا تکیہ

۸

تیکھے پن کے ترے قربان اکڑ کے صدقےکیا ہی بیٹھا ہے لگا کر کے سپر کا تکیہ

۹

گرچہ ہم سخت گنہ گار ہیں لیکن واللہدل میں جو ڈر ہے ہمیں ہے اسی ڈر کا تکیہ

۱۰

گریہ و آہ و فغاں نالہ و یا رب فریادسب کو ہے ہر شب و روز اپنے اثر کا تکیہ

۱۱

رند و آزاد ہوئے چھوڑ علاقہ سب کاڈھونڈھتے کب ہیں پدر اور پسر کا تکیہ

۱۲

گر بھروسا ہے ہمیں اب تو بھروسا تیرااور تکیہ ہے اگر تیرے ہی در کا تکیہ

۱۳

شوق سے سوئیے سر رکھ کے مرے زانو پراس کو مت سمجھئے کچھ خوف و خطر کا تکیہ

۱۴

جب تلک آپ نہ جاگیں گے رہے گا یوں ہیسرکے گا تب ہی کہ جب کہیے گا سرکا تکیہ

۱۵

لطف ایزدی ہی سے امید ہے انشا اللہکچھ نہیں رکھتے ہیں ہم فضل و ہنر کا تکیہ

۴۹ / ۸۰