کلامِ انشاردیف و

چھیڑنے کا تو مزہ جب ہے کہو اور سنو

۱

چھیڑنے کا تو مزہ جب ہے کہو اور سنوبات میں تم تو خفا ہو گئے لو اور سنو

۲

تم کہو گے جسے کچھ کیوں نہ کہے گا تم کوچھوڑ دے گا وہ بھلا دیکھیے تو اور سنو

۳

یہ بھی انصاف ہے کچھ سوچو تو اپنے دل میںتم تو سو کہہ لو مری کچھ نہ سنو اور سنو

۴

اب تو کچھ اتنے خفا ہو کہ کہو ہو مجھ سےہے قسم تم کو مرا نام نہ لو اور سنو

۵

عرض احوال مرا سن کے جھڑک کر بولےجاؤ، رے واؤ زبر رو ہو، چلو اور سنو

۶

چل کے دو ایک قدم دیکھتے پھر ہو یوں کوگالیاں سن تو چکے چاہتے ہو اور سنو

۷

آپ ہی آپ مجھے چھیڑو رکو پھر آپھیآپ ہی بات میں پھر روٹھ رہو اور سنو

۸

آفریں ایں نہ یہی چاہیئے شاباش تمہیںدیکھ روتا مجھے یوں ہنسنے لگو اور سنو

۹

بات میری جو نہیں سنتے اکیلے مل کےایسے ہے ڈھب سے سناؤں کہ سنو اور سنو

۱۰

شکوہ مند آپ سے انشاؔ ہو سو اس کا کیا دخلتم نہ مانو تو کہیں چپکے چھپو اور سنو

۴۸ / ۸۰