کلامِ انشاردیف ک
ایک دن رات کی صحبت میں نہیں ہوتے شریک
۱
ایک دن رات کی صحبت میں نہیں ہوتے شریکہم کو کیا فائدہ گر آپ بہت ہیں نزدیک
۲
اب تو ٹک ہو کے کھڑے بات ہماری سن لورات ہے کوچہ و بازار پڑے ہیں تاریک
۳
پان جو ہاتھ سے کل غیر کے تو نے کھایاپی کے لوہو کو غرض گھونٹ رہے ہم جوں پیک
۴
دور ہو وادئ مجنوں سے نکل اے وحشتکس وسیلہ سے ملی تجھ کو جہاں کی تملیک
۵
وادیٔ عشق میں انشاؔ تو سنبھل کر جاتاہاں خبردار کہ یہ راہ بہت ہے تاریک
۲۵ / ۸۰