کلامِ انشاردیف ک
بات کے ساتھ ہی موجود ہے ٹال ایک نہ ایک
۱
بات کے ساتھ ہی موجود ہے ٹال ایک نہ ایکہے خلاف اپنے سدا آپ کے چال ایک نہ ایک
۲
ہم بھی اس واسطے بیٹھے ہیں کہ ہو رہتا ہےتجھ سہی سرو کے سایہ میں نہال ایک نہ ایک
۳
یار ہے پاس پر اب فرط تردد کے سببآ ہی رہتا ہے مرے دل کو ملال ایک نہ ایک
۴
میں تو ہر چند بچاتا ہوں ولیکن ہیہاتکھب ہی جاتا ہے ان آنکھوں میں جمال ایک نہ ایک
۵
تجھے کچھ حسن پرستی سے نہیں کام ولےہو ہی رہتا ہے مرے جی کا زوال ایک نہ ایک
۶
کیا کروں گرچہ بھلاتا ہوں بہت میں لیکنآ ہی رہتا ہے ترا مجھ کو خیال ایک نہ ایک
۷
مجلس وجد میں پڑھ اپنی غزل تو انشاؔکر ہی بیٹھے گا ابھی سنتے ہی حال ایک نہ ایک
۲۶ / ۸۰