کلامِ انشاردیف ق
ٹک قیس کو چھیڑ چھاڑ کر عشق
۱
ٹک قیس کو چھیڑ چھاڑ کر عشقلپٹا مجھے پنجے جھاڑ کر عشق
۲
خم ٹھونک مری ہوا مقابلفرہاد کو دوں پچھاڑ کر عشق
۳
آیا کج و وا کج اس طرف کووامق کا گھر اجاڑ کر عشق
۴
بے فوج سرشک و پرچم آہجھپٹا یوں بھیڑ بھاڑ کر عشق
۵
القصہ سبھوں کے ہو مقابلپہونچا اب ہم کو تاڑ کر عشق
۶
تا دامن کوہ کھینچ لایاجنگل میں انہوں کو گاڑ کر عشق
۷
ہم عشق اللہ بولے تو بھیچنگھاڑ کے آئے پھاڑ کر عشق
۸
ہے ہے انشاؔ ہمارے دل کوبے طرح گیا لتاڑ کر عشق
۲۴ / ۸۰