کلامِ انشاردیف م
مل مجھ سے اے پری تجھے قرآن کی قسم
مل مجھ سے اے پری تجھے قرآن کی قسمدیتا ہوں تجھ کو تخت سلیمان کی قسم
کر و بیوں کی تجھ کو قسم اور عرش کیجبریل کی قسم تجھے رضوان کی قسم
طوبیٰ کی سلسبیل کی کوثر کے جام کیحور و قصور و جنت و غلمان کی قسم
روح القدس کی تجھ کو قسم اور مسیح کیمریم کے تجھ کو عفت دامان کی قسم
توریت کی قسم قسم انجیل کی تجھےتجھ کو قسم زبور کی فرقان کی قسم
تجھ کو محمد عربی کی قسم ہے اورمولا علی کی شاہ خراسان کی قسم
ملت میں جس کی تو ہوئی اس کی قسم تجھےاور اپنے دین مذہب و ایمان کی قسم
داماں کو میری ہاتھ سے اس رات مت جھٹکتجھ کو سحر کے چاک گریبان کی قسم
مدت سے تیری چاہ ذقن میں غریق ہوںباللہ مجھ کو یوسف کنعان کی قسم
قیدی ہوں میں ترا بخدا وندیٔ خدااور اس عزیز مصر کے زندان کی قسم
موسیٰ کی ہے قسم تجھے اور کوہ طور کینور و فروغ جلوۂ لمعان کی قسم
نرگس کی آنکھ کی قسم اور گل کے کان کیتجھ کو سر عزیز گلستاں کی قسم
تجھ کو قسم ہے غنچۂ زنبق کے ناک کیاور شور عندلیب غزلخوان کی قسم
سونے کی گائے کی قسم اور رود نیل کیلیلیٰ کی ہے تجھے صف مژگان کی قسم
ایسی بڑی قسم بھی نہ مانے تو ہے تجھےتجھ کو اسی کے شوکت ذیشان کی قسم
دیو سفید کی قسم اور کوہ قاف کیباغ ارم کی اور پرستان کی قسم
لونا چماری کی قسم اور کلو عبیر کیکالی بلا کی غول بیابان کی قسم
قسمیں تو ساری ہو چکیں باقی رہی ہے ابپیپل تلے کے بھتنے کی شیطان کی قسم
ہاں پھر تو کہیو ہائے وہ کس طرح ہوئے غضبانشاؔ نہ چھیڑ مجھ کو مری جان کی قسم
۲۷ / ۸۰