کلامِ انشاردیف م
ترک کر اپنے ننگ و نام کو ہم
۱
ترک کر اپنے ننگ و نام کو ہمجاتے ہیں واں فقط سلام کو ہم
۲
خم کے خم تو لڑھائی یوں ساقیاور یوں ترسیں ایک جام کو ہم
۳
میں کہا میں غلام ہوں بولاجانیں ہیں خوب اس غلام کو ہم
۴
دیر و کعبہ کے بیچ ہیں ہنستےخلق کے دیکھ اژدہام کو ہم
۵
متکلم ہیں خاص لوگوں سےکرتے ہیں کب خطاب عام سے ہم
۶
روٹھنے میں بھی لطف ہے انشاؔصبح گر روٹھے وہ تو شام کو ہم
۲۸ / ۸۰