کلامِ انشاردیف م

وہ دیکھا خواب قاصر جس سے ہے اپنی زباں اور ہم

۱

وہ دیکھا خواب قاصر جس سے ہے اپنی زباں اور ہمکہ گویا ایک جا ہے اس میں ہے وہ نوجواں اور ہم

۲

وہ رو رو مجھ سے کہتا ہے خدا کی باتیں ہیں ورنہبھلا ٹک دل میں اپنے غور کر تو یہ مکاں اور ہم

۳

جو پوچھا قیس سے لیلیٰ نے جنگل میں اکیلے ہوتو بولے اے نہیں وحشت ہے اور آہ و فغاں اور ہم

۴

اجی گڑبڑ رہی ہے عقل اپنے سب فرشتوں سےپڑے پھرتے ہیں باہم سیر کرتے قدسیاں اور ہم

۵

نشا ہے عالم مستی ہے بے قیدی ہے رندی ہےکہاں اب زہد و تقویٰ ہے خرابات مغاں اور ہم

۶

نیابت ہم کو رضواں کی ملی مولیٰ کے صدقہ سےوگرنہ عہدۂ دربانیٔ باغ جناں اور ہم

۷

عجب رنگینیاں باتوں میں کچھ ہوتی ہیں اے انشاؔبہم ہو بیٹھتے ہیں جب سعادت یار خاں اور ہم

۲۹ / ۸۰