کلامِ انشاردیف ن

تمہارے ہاتھوں کی انگلیوں کی یہ دیکھو پوریں غلام تیسوں

۱

تمہارے ہاتھوں کی انگلیوں کی یہ دیکھو پوریں غلام تیسوںغرض کہ غش ہے اگر نہ مانو تو جھٹ اٹھا لے کلام تیسوں

۲

امام بارہ بروج بارہ عناصر و جسم و روح اے دلیہی تو سرکار حق تعالی کی ہیں مدار المہام تیسوں

۳

نہیں عجائب کچھ آنکھ ہی میں رطوبتیں تین سات پردےعقول دس مدرکات دس ہیں سو کرتے رہتے ہیں کام تیسوں

۴

علوم چودہ مقولہ دس اور جہات ستہ بنائے اس نےامور دنیا کو تاکہ پہنچایں خوب سا انصرام تیسوں

۵

بلائیں کالی ہیں اس پری بن یہ تیسوں راتیں کچھ ایسی انشاؔکہ ہر مہینے کے دن بھی جن کو کرے ہیں جھک کر سلام تیسوں

۳۱ / ۸۰