کلامِ انشاردیف ن

دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیں

۱

دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیںکہ ابھی عرش کو چاہیں تو ہلا سکتے ہیں

۲

مجھ سے اغیار کوئی آنکھ ملا سکتے ہیںمنہ تو دیکھو وہ مرے سامنے آ سکتے ہیں

۳

یاں وہ آتش نفساں ہیں کہ بھریں آہ تو جھٹآگ دامان شفق کو بھی لگا سکتے ہیں

۴

سوچئے تو سہی ہٹ دھرمی نہ کیجے صاحبچٹکیوں میں مجھے کب آپ اڑا سکتے ہیں

۵

حضرت دل تو بگاڑ آئے ہیں اس سے لیکناب بھی ہم چاہیں تو پھر بات بنا سکتے ہیں

۶

شیخی اتنی نہ کر اے شیخ کہ رندان جہاںانگلیوں پر تجھے چاہیں تو نچا سکتے ہیں

۷

تو گروہ فقرا کو نہ سمجھ بے جبروتذات مولیٰ میں یہی لوگ سما سکتے ہیں

۸

دم ذرا سادھ کے لیتے ہیں پھریری تو ابھیسون کھینچی ہوئی لاہوت کو جا سکتے ہیں

۹

گرچہ ہیں مونس و غم خوار تگ و دو میں سہیپر تری طبع کو کب راہ پہ لا سکتے ہیں

۱۰

چارہ ساز اپنے تو مصروف بدل ہیں لیکنکوئی تقدیر کے لکھے کو مٹا سکتے ہیں

۱۱

ہے محبت جو ترے دل میں وہ اک طور پہ ہےہم گھٹا سکتے ہیں اس کو نہ بڑھا سکتے ہیں

۱۲

کر کے جھوٹا نہ دیا جام اگر تو نے تو چلمارے غیرت کے ہم افیون تو کھا سکتے ہیں

۱۳

ہم نشیں تو جو یہ کہتا ہے کہ قدغن ہے بہتاب وہ آواز بھی کب تجھ کو سنا سکتے ہیں

۱۴

اے نہ آواز سناویں مجھے در تک آ کراپنے پاؤں کے کڑوں کو تو بجا سکتے ہیں

۱۵

ہم تو ہنستے نہیں پر آپ کے ہنسنے کے لیےاور اگر سانگ نہیں کوئی بنا سکتے ہیں

۱۶

کالی کاغذ کی ابھی ایک کتر کر بیچازاہد بزم کے منہ پر تو لگا سکتے ہیں

۱۷

گھر سے باہر تمہیں آنا ہے اگر منع تو آپاپنے کوٹھے پہ کبوتر تو اڑا سکتے ہیں

۱۸

جھولتے ہیں یہ جو جھولی میں سو کہتے ہیں مجھےایک وعدہ پہ تجھے برسوں جھلا سکتے ہیں

۱۹

ایک ڈھب کے جو قوافی ہیں ہم ان میں انشاؔاک غزل اور بھی چاہیں تو سنا سکتے ہیں

۳۷ / ۸۰