کلامِ انشاردیف ن
بنک کی جلوہ گری پر غش ہوں
۱
بنک کی جلوہ گری پر غش ہوںیعنی اس سبز پری پر غش ہوں
۲
گرچہ دنیا کے ہنر ہیں لیکناپنے میں بے ہنری پر غش ہوں
۳
برق کی طرح نہ تڑپوں کیوں کرتیری پوشاک زری پر غش ہوں
۴
اس کی پشواز کی سے لائی باساس کی میں گود بھری پر غش ہوں
۵
غش نسیم سحری ہے مجھ پرمیں نسیم سحری پر غش ہوں
۶
اسے کچھ ہو نہ سکا انشاؔ میںآہ کی بے اثری پر غش ہوں
۳۹ / ۸۰