کلامِ انشاردیف ن
کیا ملا ہم کو تیری یاری میں
۱
کیا ملا ہم کو تیری یاری میںرہے اب تک امیدواری میں
۲
ہاتھ گہرا لگا کوئے قاتلزور لذت ہے زخم کاری میں
۳
دل جو بے خود ہوا صبا لائیکس کی بو نگہت بہاری میں
۴
ٹک ادھر دیکھ تو بھلا اے چشمفائدہ ایسی اشک باری میں
۵
چٹ لگا دیتے ہیں مرے آنسوسلک گوہر کے آب داری میں
۶
روٹھ کر اس سے میں جو کل بھاگاناگہاں دل کی بے قراری میں
۷
آ لیا اس نے دوڑ کر مجھ کوتاک کے اوچھل ایک کیاری میں
۸
یوں لگا کہنے بس دوانہ نہ بنپاؤں رکھ اپنا ہوشیاری میں
۹
کب تلک میں بھلا رہوں شب و روزتیری ایسی مزاج داری میں
۱۰
ہے سمایا ہوا جو لڑکا پنآپ کی وضع پیاری پیاری میں
۱۱
اپنی بکری کا منہ چڑاتے وقتکیا خوش آتی ہے یہ تمہاری میں
۱۲
بندۂ بو تراب ہے انشاؔشک نہیں اس کی خاکساری میں
۴۰ / ۸۰