کلامِ انشاردیف ن

یاس و امید و شادی و غم نے دھوم اٹھائی سینہ میں

۱

یاس و امید و شادی و غم نے دھوم اٹھائی سینہ میںخوب مجھے ہے آج دھما دھم مار کٹائی سینہ میں

۲

دید کیا جو وادئ مجنوں ہم نے دھن میں وحشت کےشکل مجسم ہو کے جنوں کی آن سمائی سینہ میں

۳

شیخ و برہمن دیر و حرم میں ڈھونڈھتے ہو کیا لا حاصلموند کے آنکھیں دیکھو تو ہے ساری خدائی سینہ میں

۴

قہر کیا یہ تم نے صاحب آنکھ لڑانا آفت تھاجھٹ پٹ دل کو پھونک دیا اور آگ لگائی سینہ میں

۵

حضرت دل تو کب کے سدھارے خوب جو ڈھونڈا انشاؔ نےایک دھواں سا آہ کا اٹھا خاک نہ پائی سینہ میں

۴۱ / ۸۰