کلامِ انشاردیف ن

یا وصل میں رکھیے مجھے یا اپنی ہوس میں

۱

یا وصل میں رکھیے مجھے یا اپنی ہوس میںجو چاہئے سو کیجیے ہوں آپ کے بس میں

۲

یہ جائے ترحم ہے اگر سمجھے تو صیادمیں اور پھنسوں اس طرح اس کنج قفس میں

۳

آتی ہے نظر اس کی تجلی ہمیں زاہدہر چیز میں ہر سنگ میں ہر خار میں خس میں

۴

ہر رات مچاتے پھریں ہیں شوق سے دھومیںیہ مست مئے عشق ہیں کب خوف عسس میں

۵

کیا پوچھتے ہو عمر کٹی کس طرح اپنیجز درد نہ دیکھا کبھو اس تیس برس میں

۶

ہر بات میں یہ جلدی ہے ہر نکتے میں اصراردنیا سے نرالی ہیں غرض تیری تو رسمیں

۷

دشمن کو ترے گاڑوں میں اے جان جہاں بستو مجھ کو دلایا نہ کر اس طور کی قسمیں

۸

انشاؔ ترے گر گوش اصم ہوں نہ تو آوےآواز ترے یار کی ہر بانگ جرس میں

۴۲ / ۸۰