کلامِ انشاردیف ن
وہ جو شخص اپنے ہی تاڑ میں سو چھپا ہے دل ہی کی آڑ میں
وہ جو شخص اپنے ہی تاڑ میں سو چھپا ہے دل ہی کی آڑ میںنہ وہ بستی میں نہ اجاڑ میں نہ وہ جھاڑ میں نہ پہاڑ میں
مجھے کام تجھ سے ہے اے جنوں نہ کہوں کسی سے نہ کچھ سنوںنہ کسی کی رد و قدح میں ہوں نہ اکھاڑ میں نہ پچھاڑ میں
یہ صبا نے قیس سے آ کہا کہ سنا کچھ اور بھی ماجراترے پاس سے جو چلا گیا تو کھڑا ہے ناقہ اجاڑ میں
ارے آہ تو نے غضب کیا مرے دل کو مجھ سے تڑا لیامری جی کو لے کے جلا دیا پڑی اختلاط یہ پہاڑ میں
خفگی بھی طرفہ ہے ایک شے پڑے قصہ ہوتے ہیں لاکھوں طےوہ کہاں ملاپ میں لطف ہے جو مزہ ہے ان کی بگاڑ میں
مژہ پر ہے پارۂ دل تھنبا وہ مثل ہوئی ہے اب اے خداکہ درخت سے جو کبھی گرا تو وہ اٹکا ان کے ہی جھاڑ میں
کہیں کھڑکیوں کی طرف بندھی مری ٹکٹکی تو اے لو ابھیگل نرگس آ کے لگا گئی وہ پری ہر ایک دراڑ میں
مری دل میں نشہ کا ہے مکاں مجھے سوجھتی ہیں وہ مستیاںکہ کھجوری چوٹیوں والیاں پڑی پھرتی ہیں مرے تاڑ میں
بڑی داڑھیوں پہ نہ جا دلا یہ سب آہوؤں کی ہیں مبتلایہ شکار کیسے ہیں برملا انہیں ٹٹیوں کی تو آڑ میں
کھڑی جھانکتی ہے وہی پری نہیں شبہ اس میں تو واقعیوہ جو عطر فتنہ کی باس تھی سو رچی ہوئی ہے کواڑ میں
نہ کر اپنی جان کو مضمحل ارے انشاؔ ان سے لگا نہ دلتو دگر نہ ہووے گا منفعل کہیں آ گیا جو لتاڑ میں
۴۳ / ۸۰