کلامِ انشاردیف ن

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں

۱

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیںبہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

۲

نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنیتجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

۳

خیال ان کا پرے ہے عرش اعظم سے کہیں ساقیغرض کچھ اور دھن میں اس گھڑی مے خوار بیٹھے ہیں

۴

بسان نقش پائے رہرواں کوئے تمنا میںنہیں اٹھنے کی طاقت کیا کریں لاچار بیٹھے ہیں

۵

یہ اپنی چال ہے افتادگی سے ان دنوں پہروںنظر آیا جہاں پر سایۂ دیوار بیٹھے ہیں

۶

کہیں ہیں صبر کس کو آہ ننگ و نام ہے کیا شےغرض رو پیٹ کر ان سب کو ہم یک بار بیٹھے ہیں

۷

کہیں بوسے کی مت جرأت دلا کر بیٹھیو ان سےابھی اس حد کو وہ کیفی نہیں ہشیار بیٹھے ہیں

۸

نجیبوں کا عجب کچھ حال ہے اس دور میں یاروجسے پوچھو یہی کہتے ہیں ہم بے کار بیٹھے ہیں

۹

نئی یہ وضع شرمانے کی سیکھی آج ہے تم نےہمارے پاس صاحب ورنہ یوں سو بار بیٹھے ہیں

۱۰

کہاں گردش فلک کی چین دیتی ہے سنا انشاؔغنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں

۴۴ / ۸۰