کلامِ انشاردیف ن

گاہے گاہے جو ادھر آپ کرم کرتے ہیں

۱

گاہے گاہے جو ادھر آپ کرم کرتے ہیںوہ ہیں اٹھ جاتے ہیں یہ اور ستم کرتے ہیں

۲

جی نہ لگ جائے کہیں تجھ سے اسی واسطے بسرفتہ رفتہ ترے ہم ملنے کو کم کرتے ہیں

۳

واقعی یوں تو ذرا دیکھیو سبحان اللہتیرے دکھلانے کو ہم چشم یہ نم کرتے ہیں

۴

عشق میں شرم کہاں ناصح مشفق یہ بجاآپ کو کیا ہے جو اس بات کا غم کرتے ہیں

۵

گالیاں کھانے کو اس شوخ سے ملتے ہیں ہاںکوئی کرتا نہیں جو کام سو ہم کرتے ہیں

۶

ہیں طلب گار محبت کے میاں جو اشخاصوہ بھلا کب طلب دام و درم کرتے ہیں

۷

عین مستی میں ہمیں دید فنا ہے انشاؔآنکھ جب موندتے ہیں سیر عدم کرتے ہیں

۴۵ / ۸۰