کلامِ انشاردیف ق
ناداں کہاں طرب کا سرانجام اور عشق
۱
ناداں کہاں طرب کا سرانجام اور عشقکچھ بھی تجھے شعور ہے آرام اور عشق
۲
لینے نہ دیویں گے مجھے ٹک چین جیتے جیدشمن یہ دونو گردش ایام اور عشق
۳
یاں غش ہیں شوق طوف ہیں یاران کعبہ کواے نامہ بر تو کہیو یہ پیغام اور عشق
۴
کیا نام لے کے اس کا پکارا کروں کہ یاںرکھتا ہے ہر زبان میں اک نام اور عشق
۵
پوچھا کسی نے قیس سے تو ہے محمدیبولا وہ بھر کے آہ کہ اسلام اور عشق
۶
اسباب کائنات سے بس ہو کے بے نواانشاؔ نے انتخاب کیا جام اور عشق
۲۳ / ۸۰