کلامِ انشاردیف و

لو فقیروں کی دعا ہر طرح آباد رہو

۱

لو فقیروں کی دعا ہر طرح آباد رہوخود رہو موجیں کرو تازے رہو شاد رہو

۲

ایرے غیرے وہ جو ہوں شوق سے چٹ کر لو انہیںپر خدا والوں کی کرتے ہوئے امداد رہو

۳

قمری باغ بہشت اب جو یہ بے فاختہ ہیںانہیں بھی کہہ دو کہ تم سرو سے آزاد رہو

۴

دید اس کی ہے کرو جس نے بنایا سب کچھنہ کہ ہر لحظہ فدائے گل و شمشاد رہو

۵

دام میں سے جو چھٹے ہیں انہیں یہ حکم ہواکہ بس اب گرد در خانۂ صیاد رہو

۶

جا کے اوروں سے بدو یاد فراموش ولےخود فراموشوں کو مولیٰ مری تم یاد رہو

۷

صورت آوے جو نظر کھینچ لو اس کی تصویراپنے اس وقت کے تم مانی و بہزاد رہو

۸

چمن امن و اماں کے تمہیں ہو سیر نصیبسائیں اللہ سدا بر سر ارشاد رہو

۹

عیش و عشرت کرو ہر وقت تم انشا اللہؔحسن چمکائے پھرو سب میں پری زاد رہو

۴۷ / ۸۰