دلی در سینہ دارم بے سروری
چہ میخواہی ازین مرد تن آساےبہ ہر بادی کہ آمد رفتم از جایسحر جاوید را در سجدہ دیدمبہ صبحش چہرہ شامم بیارای
English translation
What ye hopes from an easy going bloke, whither the wind blows he changes his cloak.
I espied Javed in ‘Sajdah’ this dawn, deck my even face by his shining dawn.
Translated by Q.A. Kabir
Urdu translation
آپ اس آرام طلب بندے (اقبال) سے کیا توقع رکھتے ہیں، جسے ہوا کا ہر جھونکا اپنی جگہ سے ہٹا دیتا ہے۔صبح میں نے جاوید کو سجدے میں دیکھا ، اس کی صبح سے میری شام کو آراستہ کر دیں (اس کی جوانی میرے بڑھاپے کے لیے باعث فخر ہے۔
About this couplet
This is couplet 5 of 5 in “دلی در سینہ دارم بے سروری”, from Allama Muhammad Iqbal's Persian book Armaghan-e-Hijaz (ارمغانِ حجاز), published in 1938.
Read it in the poem۵ / ۵