مرنج از برہمن اے واعظ شہر

مرنج از برہمن اے واعظ شہرگر از ما سجدہ ئی پیش بتان خواستخدای ما کہ خود صورتگری کردبتی را سجدہ ئی از قدسیان خواست

English translation

O preacher if the Brahmin asks that we bow down to idols, then why should you be displeased?
The greatest idol-maker, God; bade angels bow down to His idol, man.

Translated by M. Hadi Husain

Urdu translation

اے واعظ شہر برہمن سے ناراض نہ ہو ، اگر وہ ہمیں بتوں کے سامنے سجدہ کے لیے کہتا ہے۔ہمارے خدا نے خود (آدم کی ) صورت بنائی اور پھر فرشتوں کو اس بت کو سجدہ کرنے کے لیے کہا (وہ بت نہیں تھا اس کے اندر اللہ تعالے نے اپنی روح پھونک دی تھی ، پھر فرشتوں سے کہا کہ اسے سجدہ کرو)۔

About this couplet

This is couplet 1 of 1 in “⁨مرنج از برہمن اے واعظ شہر⁩” in the section The Tulip of Sinai, from Allama Muhammad Iqbal's Persian book Payam-e-Mashriq (⁨پیامِ مشرق⁩), published in 1923.

Read it in the poem

۱ / ۱