آزادی بحر
بطی می گفت بحر آزاد گردیدچنین فرمان ز دیوان خضر رفتنہنگی گفت رو ہر جا کہ خواہیولی از ما نباید بے خبر رفت
Urdu translation
بطخ کہتی تھی، ہمارے لیے بحر میں (گھومنے پھرنے کی) پوری آزادی ہو گئی ہے۔ خضر (علیہ) کے دفتر سے یہ فرمان صادر ہوا ہے۔مگر مچھ بولا: جہاں چاہے پھر مگر ہم سے غافل نہ رہنا۔
About this couplet
This is couplet 1 of 1 in “آزادی بحر” (The Freedom Of The Sea) in the section A Picture of Europe, from Allama Muhammad Iqbal's Persian book Payam-e-Mashriq (پیامِ مشرق), published in 1923.
Read it in the poem۱ / ۱