ضربِ کلیمسیاست مشرق و مغرب
دام تہذیب
Culture's Snare
۱
اقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہےہر ملت مظلوم کا یورپ ہے خریدار
Iqbal hasn't doubt of Europe's noble aim, to every oppressed nation lays a claim.
۲
یہ پیر کلیسا کی کرامت ہے کہ اس نےبجلی کے چراغوں سے منور کیے افکار
Oh this wonder great has The Guide of Church wrought. By means of electric lamps has lit their thought.
۳
جلتا ہے مگر شام و فلسطیں پہ مرا دلتدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقدہ دشوار
My heart, is grieved for Syria and Palestine, no known device can e'er unknit this skein.
۴
ترکان 'جفا پیشہ' کے پنجے سے نکل کربیچارے ہیں تہذیب کے پھندے میں گرفتار
Of cruel Turkish hold they have got rid; in culture's snare they too soon have slid!
۱۷۵ / ۲۰۵