کلامِ جگرردیف الف
تجھی سے ابتدا ہے تو ہی اک دن انتہا ہوگا
تجھی سے ابتدا ہے تو ہی اک دن انتہا ہوگاصدائے ساز ہوگی اور نہ ساز بے صدا ہوگا
ہمیں معلوم ہے ہم سے سنو محشر میں کیا ہوگاسب اس کو دیکھتے ہوں گے وہ ہم کو دیکھتا ہوگا
سر محشر ہم ایسے عاصیوں کا اور کیا ہوگادر جنت نہ وا ہوگا در رحمت تو وا ہوگا
جہنم ہو کہ جنت جو بھی ہوگا فیصلہ ہوگایہ کیا کم ہے ہمارا اور ان کا سامنا ہوگا
ازل ہو یا ابد دونوں اسیر زلف حضرت ہیںجدھر نظریں اٹھاؤ گے یہی اک سلسلا ہوگا
یہ نسبت عشق کی بے رنگ لائے رہ نہیں سکتیجو محبوب خدا کا ہے وہ محبوب خدا ہوگا
اسی امید پر ہم طالبان درد جیتے ہیںخوشا درد دے کہ تیرا اور درد لا دوا ہوگا
نگاہ قہر پر بھی جان و دل سب کھوئے بیٹھا ہےنگاہ مہر عاشق پر اگر ہوگی تو کیا ہوگا
سیانا بھیج دے گا ہم کو محشر سے جہنم میںمگر جو دل پہ گزرے گی وہ دل ہی جانتا ہوگا
سمجھتا کیا ہے تو دیوانگان عشق کو زاہدیہ ہو جائیں گے جس جانب اسی جانب خدا ہوگا
جگرؔ کا ہاتھ ہوگا حشر میں اور دامن حضرتشکایت ہو کہ شکوہ جو بھی ہوگا برملا ہوگا
۳ / ۸۹