کلامِ جگرردیف الف
ستم کامیاب نے مارا
۱
ستم کامیاب نے ماراکرم لا جواب نے مارا
۲
خود ہوئی گم ہمیں بھی کھو بیٹھینگہ بازیاب نے مارا
۳
زندگی تھی حجاب کے دم تکبرہمئ حجاب نے مارا
۴
عشق کے ہر سکون آخر کوحسن کے اضطراب نے مارا
۵
خود نظر بن گئی حجاب نظرہائے اس بے حجاب نے مارا
۶
میں ترا عکس ہوں کہ تو میرااس سوال و جواب نے مارا
۷
کوئی پوچھے کہ رہ کے پہلو میںتیر کیا اضطراب نے مارا
۸
بچ رہا جو تری تجلی سےاس کو تیرے حجاب نے مارا
۹
اب نظر کو کہیں قرار نہیںکاوش انتخاب نے مارا
۱۰
سب کو مارا جگرؔ کے شعروں نےاور جگرؔ کو شراب نے مارا
۴ / ۸۹