کلامِ جگرردیف الف

اس عشق کے ہاتھوں سے ہرگز نہ مفر دیکھا

۱

اس عشق کے ہاتھوں سے ہرگز نہ مفر دیکھااتنی ہی بڑھی حسرت جتنا ہی ادھر دیکھا

۲

تھا کھیل سا پہلے عشق لیکن جو کھلیں آنکھیںڈوبا ہوا رگ رگ میں وہ تیر نظر دیکھا

۳

سب ہو گئی اٹھ اٹھ کر اک باز نثار شمعپروانوں نے کیا جانے کیا وقت سحر دیکھا

۴

وہ اشک بھری آنکھیں اور درد بھرے نالےاللہ نہ دکھلائے جو وقت سحر دیکھا

۵

قرباں تری آنکھوں کے صدقے تری نظروں کےتھا حاصل صد ناوک جو زخم جگر دیکھا

۶

جاتے رہے دم بھر میں سارے ہی گلے شکوےاس جان تغافل نے جب ایک نظر دیکھا

۷

عہد غم فرقت میں دل اور جگر کیسےاک زخم ادھر پایا اک داغ ادھر دیکھا

۸

تھا باعث رسوائی ہر چند جنوں میراان کو بھی نہ چین آیا جب تک نہ ادھر دیکھا

۹

اس چشم غزالیں کو مے خانہ دل پایااس روئے نگاریں کو فردوس نظر دیکھا

۱۰

یوں دل کو تڑپنے کا کچھ تو ہے سبب آخریا درد نے کروٹ لی یا تم نے ادھر دیکھا

۱۱

کیا جانئے کیا گزری ہنگام جنوں لیکنکچھ ہوش ہو آیا تو اجڑا ہوا گھر دیکھا

۱۲

ماتھے پہ پسینا کیوں آنکھوں میں نمی کیسیکچھ خیر تو ہی تم نے کیا حال جگر دیکھا

۱۰ / ۸۹