کلامِ جگرردیف الف

شکست توبہ

۱

ساقی کی ہر نگاہ پہ بل کھا کے پی گیالہروں سے کھیلتا ہوا لہرا کے پی گیا

۲

بے کیفیوں کے کیف سے گھبرا کے پی گیاتوبہ کو توڑ تاڑ کے تھرا کے پی گیا

۳

زاہد! یہ تیری شوخئ رندانہ دیکھنارحمت کو باتوں باتوں میں بہلا کے پی گیا

۴

سر مستئ ازل مجھے جب یاد آ گئیدنیائے اعتبار کو ٹھکرا کے پی گیا

۵

آزردگئ خاطر ساقی کو دیکھ کرمجھ کو یہ شرم آئی کہ شرما کے پی گیا

۶

اے رحمت تمام مری ہر خطا معافمیں انتہائے شوق میں گھبرا کے پی گیا

۷

پیتا بغیر اذن یہ کب تھی مری مجالدر پردہ چشم یار کی شہ پا کے پی گیا

۸

اس جان مے کدہ کی قسم بارہا جگرؔکل عالم بسیط پہ میں چھا کے پی گیا

۹ / ۸۹