کلامِ جگرردیف الف
یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیا
۱
یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیاشعر و شباب و حسن کا دریا بہا گیا
۲
جب عشق اپنے مرکز اصلی پہ آ گیاخود بن گیا حسین دو عالم پہ چھا گیا
۳
جو دل کا راز تھا اسے کچھ دل ہی پا گیاوہ کر سکے بیاں نہ ہمیں سے کہا گیا
۴
ناصح فسانہ اپنا ہنسی میں اڑا گیاخوش فکر تھا کہ صاف یہ پہلو بچا گیا
۵
اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دلہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا
۶
دل بن گیا نگاہ نگہ بن گئی زباںآج اک سکوت شوق قیامت ہی ڈھا گیا
۷
میرا کمال شعر بس اتنا ہے اے جگرؔوہ مجھ پہ چھا گئے میں زمانے پہ چھا گیا
۱۲ / ۸۹